17 اگست 2010 - 19:30

سعودی وزارت انصاف کی مشیر شیخ العبیکان کی متنازعہ فتوی سے محرم و نامحرم کی دہجیاں بکھر گئی ہیں جس کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں ایک وسیع تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے نہرین نیٹ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب کی وزارت انصاف کے مشیر اور وہابی مفتی شیخ عبدالمحسن العبیکان نے متنازعہ اور عجیب و غریب فتوی دے کر اسلامی تعلیمات و احکام میں موجود محرم اور نا محرم کی قید کی دہجیاں اڑادی ہیں جس کی وجہ سے عالم اسلام کے مختلف ذرائع میں تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ نہرین نیٹ اور "دنیا الوطن" ویب سائٹوں نے رپورٹ دی ہے کہ شیخ العبیکان نے حالیہ جمعہ کی نماز کے خطبوں میں اپنے سے منسوب فتوے کی تصدیق کی ہے جس میں انہوں نے نامحرم مرد اور عورت کے درمیان اسلام کی متعینہ حدود کو پامال کرتے ہوئے حرام تعلق کو جائز قرار دیا تھا اور کہا گیا تھا کہ عورت بالغ اجنبی مرد کو دودھ پلاسکتی ہے۔ العبیکان نے کہا ہے کہ ان کے فتوی کی بنیاد سلفیت کے بانی "شیخ ابن تیمیہ" کا فتوی ہے اور شیخ ابن تیمیہ کا فتوی کسی خاص زمانے تک ہی محدود نہیں ہے اور تمام زمانوں اور مکانوں کے لئے ہے۔ یہ فتوی اور شیخ کی طرف سے اس کی تصدیق اور اس کے بعد ٹیلی ویژن پر اسی فتوے کی تصدیق کے حوالے سے شیخ العبیکان کے بیان کے بعد اسلامی دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو وسیع کوریج دی ہے۔ "مصدر ألالکترونیۃ" نامی جریدے نے سب سے پہلے شیخ کے بیان کی ویڈیو بھی ناظرین و صارفین کے سامنے پیش کردی ہے اور متفقہ اور متضاد فتاوی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا۔ یادرہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران بھی "بالغ اجنبی مرد کو دودھ پلانے اور العبیکان کے بقول نامحرموں کو اس طریقے سے محرم بنانے" کے متعدد فتاوی کی وجہ سے دینی مدارس کے طلباء اور علماء و اساتذہ میں تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے اور یہ عمل دنیا کی مسلمانوں کے در میان بھی جدل کا باعث بنا۔ العبیکان نے گذشتہ برسوں کے دوران متعدد بار اس فتوے پر تأکید کی ہے۔ شیخ العبیکان نے اس فتوے سے متفق علماء کی ایک عالمی تنظیم بنانی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان حرام رابطے کے جواز کے سلسلے میں ابن تیمیہ کے اس قسم کے فتووں کے نتائج کا پہلا اہم نمونہ مئی 2007 میں اس وقت سامنے آیا جب جامعۃالازہر کے حدیث ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر عزت عطیہ نے اداروں اور دفاتر میں اجنبی مردوں اور عورتوں کے درمیان اس حرام تعلق کی اجازت دے دی اور الازہر کی مجلس اعلی نے شیخ عزت عطیہ کو معطل کرکے ان کے باری میں تفتیش کے احکامات جاری کردیئے۔ مصر کے سرکاری خبررساں اداری "الشرق الاوسط المصریۃ" کے مطابق ڈاکٹر عزت عطیہ کی معطلی کا حکم، ان کے خلاف اقدامات کرنے کے سلسلے میں الازہر کے مشائخ کے فرمان کے بعد جاری کیا گیا اور مشائخ کے حکم کا سبب یہ تھا کہ شیخ عطیہ کے فتوے نے عظیم تنازعہ کھڑا کردیا تھا جو الازہر کے احاطے سے نکل کر مصری پارلیمان تک کو جدل و نزاع سے دچار کرچکا تھا جبکہ العبیکان کے فتوے کو سعودی سرکاری اداروں اور وزارت انصاف کی جانب سے کسی قسم کی رکاوٹ یا مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی حکمران ادارے اس فتوے سے راضی اور خوشنود ہیں!!!اور یہ فتوی ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ وہابی مفتی حیرت و سرگردانی کی حالت میں ایسے فتوے جاری کرتے ہیں جو حرام کو حلال کرتے ہیں اور حلال کو حرام کردیتے ہیں اور ان میں تجزیہ و تحلیل کی نہ تو کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی یہ مفتی صاحبان تجزیئے اور تحلیل اور ان فتووں کے اثرات و نتائج کا اندازہ لگانے کے اہل ہیں۔ وہ ان فتووں کے ذریعے نہ صرف دین اسلام کے ابدی اور آفاقی احکام کی عظمت و حقانیت ثابت نہیں کررہے ہیں بلکہ انہیں شدید نقصان پہنچا کر اسلام کی عالمی جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ ان کے فتوے عام طور پر دیگر اسلامی مذاہب کی جانب سے رد کئے جاتے ہیں اور ان کی مخالفت کی جاتی ہیں۔ یہی مفتی صاحبان جو اتنی آسانی سے ابن تیمیہ کا حوالہ دے کر اللہ کے حرام کو حلال قرار دیتے ہیں اور نامحرم مردوں اور عورتوں کے درمیان اتنے قریبی رابطے کو جائز اور حلال قرار دیتے ہیں اس سے قبل عورتوں کی ڈرائیونگ کی مخالفت میں فتوے دے چکے ہیں اور ان کا ایک فتوی یہ بھی ہے کہ کسی بھی عورت کو محرم شخص کی موجودگی کے بغیر انٹرنیٹ استعمال کرنا جائز نہیں ہے؛ اور یہی لوگ انسانوں کے وسیع قتل عام کے بھی فتوے دیتے ہیں، یمن اور عراق اور پاکستان جیسے ممالک میں ہزاروں افراد کے خون میں حصہ لیتے ہیں اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیروکاروں کے کفر اور ان کے قتل کے جواز کے فتوے دیتے ہیں اور دیگر سنی مذاہب کا بآسانی مذاق اڑاتے ہیں اور ان کو خارج از اسلام قرار دیتے ہیں یہاں آکر اجنبی مرد کو اجنبی عورت کی آغوش تک میں سونے اور اس کا دودھ پینے تک کی اجازت دے دیتے ہیں اور چادر و چار دیواری اور اسلامی حجاب اور دیگر حدود الہی کی پامالی کو جائز قرار دیتے ہیں!!!؟کیا یہاں عقل و منطق کے لئے بھی کوئی سبیل ہے؟وہابی نظریہ رضاعت:اگر کوئی بھی مرد (خواہ عمر کی کسی بھی مرحلے میں کیوں نہ ہو، کسی عورت کا دودھ پئے؛ خواہ اس دودھ سے اس کے بدن کی نشوونما پر کوئی اثر بھی نہ پڑا ہو، وہ عورت اور وہ مرد ماں اور بیٹا بن کر محرم ہوجاتے ہیں۔ اور العبیکان نے یہاں ابن تیمیہ کے حوالے سے بالغ آدمی کے لئے اجنبی عورت کا دودھ پینا جائز قرار دیا ہے اور ابن تیمیہ نے بھی بظاہر درج ذیل مأخذ سے یہ فتوی اخذ کیا ہے:مسند أحمد 6 / 270 271 - كتاب الرضاع 2 / 115 ـ كتاب الرضاع؛ كتاب الأم للمزني ص 445 - 446 ، الطبعۃ الثانيۃ ، دار المعرفۃ 1392 1973 ۔  صحيح مسلم باب رضاعۃ الكبير 4 / 168 170ـ سنن النسائي؛ باب رضاع الكبير ؛ کتاب النكاح 2 / 84 ـ طبقات ابن سعد 8 / 270 271 بترجمۃ سہلۃ ، وفي روايتہ : أبى أزواج النبي صلى اللہ عليہ وآلہ أن يأخذن بہذا ، وقلن : انما ہذہ رخصۃ من رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ لسہلۃ ، وفي ترجمۃ سالم 3 / 87 ، من الطبقات قريب منہ۔

اسلام کا نظریہ رضاعت:دودہ پلانے کے ذريعے محرم بننے کی شرائطمحرم بننے کے لئے دودہ پلانے کی آٹہ شرائط ہيں:١) بچہ زندہ عورت کا دودھ پئے۔٢) عورت کا دودہ ولادت کی وجہ سے ہو اور حرام کا نہ ہو۔ لہٰذا اگر زنا کی وجہ سے عورت کی چہاتی ميں دودھ آجائے اور کسی بچے کو پلائے تو اس سے وہ بچہ کسی کا محرم نہيں بن سکتا؛ بچے کا باپ بھی رضامند ہونا ضروری ہے۔٣) بچہ چھاتی سے ہی دودھ پئے، لہٰذا گر دودھ صرف اس کے گلے ميں انڈیل دیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔۴) عورت کا دودھ کسی اور چيز سے ملا ہوا نہ ہو۔۵) دودھ ایک ہی شوہر سے تعلق رکھتا ہو۔ لہٰذا اگر دودھ پلانے والی عورت کو طلاق دے دی جائے، پھر وہ دوسری شادی کرلے اور نئے شوہر سے حاملہ ہوجائے اور زچگی سے پہلے تک سابق شوہر والا دودھ باقی ہو اور مثلاً آٹھ مرتبہ زچگی سے پہلے، سابق شوہر والا دودھ اور سات مرتبہ زچگی کے بعد دوسرے شوہر والا دودھ کسی بچے کو پلائے تو یہ بچہ متعلقہ عورت ا محرم نہيں بنے گا۔۶) بچہ دودھ کی قے نہ کردے اور اگر قے کردے تو احتياط واجب کی بنا پر وہ افراد جو دودھ پلانے کی وجہ سے اس کے محرم بنيں گے اس سے شادی نہ کریں اور نہ ہی اس پرمحرمانہ نظر ڈاليں۔٧) پندرہ بار یا ایک شب و روز سير ہو کر دودھ پئے یا اتنا دودھ پئے کہ کہا جاسکے کہ اس دودھ سے اس کی ہڈیاں مضبوط ہوئی ہيں اور اس کے بدن پر گوشت چڑھا ہے اور اس کی نشو و نما میں مدد ملی ہے۔ اگر عورت بچے کو دس بار دودھ پلائے تو احتياط مستحب یہ ہے کہ دودھ پينے کی وجہ سے جو اس کے محرم بنتے ہيں، وہ اس سے شادی نہ کریں، اور محرمانہ نظر بہی اس پرنہ ڈاليں۔٨) اجنبی عورت  کا دودھ پینے والا بچہ دو سال کا نہ ہو چکا ہو۔ لہٰذا اگر دو سالہ ہو جانے کے بعد کسی عورت کا دودھ پئےتو اس وجہ سے وہ اس عورت کا محرم نہيں بنے گا، بلکہ اگر مثلاً دو سال مکمل ہونے سے پہلے آٹھ مرتبہ اوردوسال مکمل ہونے کے بعد سات مرتبہ کسی عورت کا دودھ پئے تو بھی کسی کا محرم نہيں بنے گا۔ ہاں، اگر دودھ پلانے والی عورت کے زچگی کے بعد سے دو سال گزر چکے ہوں اور ابھی اس کی چھاتی سے دودھ آتا ہو اور کسی بچے کو دودھ پلائے تو وہ بچہ مذکورہ افراد کامحرم بن جائے گا۔مسئلہ: ضروری ہے کہ بچہ ایک روز و شب ميں کوئی غذا نہ کہائے یا کسی اور کا دودھ نہ پئے ۔ ہاں، اگر اتنی مختصر غذا کھائے کہ اسے "غذا کھانا" نہ کہا جا سکے تو کوئی حرج نہيں ہے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ پندرہ مرتبہ ایک ہی عورت کا دودھ پئے اور اس پندرہ مرتبہ دودھ پینے کے عرصے کے دوران کسی اور عورت کا دودھ نہ پئے۔ ہر مرتبہ بغير کسی فاصلے کے مکمل سير ہو کر دودھ پئے۔ ہاں، اگر درميان ميں سانس لينے کے لئے رکے یا کچھ صبر کرے، اتنا کہ پہلی مرتبہ چھاتی منہ ميںلينے سے لے کر سير ہونے تک کو عرفاً یہ کہا جائے کہ اس نے حقيقتاً ایک ہی بار دودھ پيا ہے، تو کوئی حرج نہيں۔

.....

/110